نئی دہلی، 18جولائی؍(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے آج اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں عظیم کرکٹر سچن تندولکر کو دیا بھارت رتن ایوارڈ واپس لینے کی مانگ کی گئی تھی۔پٹیشن میں ایوارڈ واپس لینے کے لئے ملک کے اعلی ترین شہری اعزاز کے مبینہ غلط استعمال کوبنیادبنایاگیاتھا۔جسٹس دیپک مشرا اور ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے کہا کہ ایسا کوئی قانونی دفعہ، اور قانون نہیں ہے جوتندولکر کے خلاف لگائے الزامات سے نمٹنے۔درخواست کنندہ وی ناسوا نے الزام لگایا کہ بہت سے مصنفین نے اپنی کتابوں میں تندولکر کا ذکر بھارت رتن کے طور پر کیا ہے اور انہوں نے اپنی کتاب کا نام بھی اسی طریقے سے رکھا ہے۔درخواست گزارنے ساتھ ہی الزام لگایا کہ ایوارڈ سے نوازاے جانے کے بعد بھی تندولکر نے کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینا جاری رکھا۔بنچ نے کہا کہ اگر تندولکر نے کتاب لکھی ہوتی اور اس میں ’’بھارت رتن‘‘لفظ شامل ہوتا تو معاملہ مختلف ہوتا لیکن جب کوئی تیسرافریق کتاب لکھ رہا ہے تو انہیں جوابدہ نہیں بنایا جا سکتا۔بنچ نے عرضی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر مدعا علیہ نمبر دو ’’بھارت رتن‘‘لفظ کا استعمال کرتے ہوئے کتاب لکھتا تو معاملہ مختلف ہوتا،جب کوئی تیسرا شخص کتاب لکھ رہا ہے تو ہمارے دماغ میں کوئی شک نہیں ہے کہ مدعا علیہ نمبر دو کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ناسوا نے اپنی درخواست میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے 10اگست 2015کے حکم کو چیلنج کیا تھا جس کے ذریعے تندولکر کے بھارت رتن ایوارڈ کے مبینہ طور پر غلط استعمال سے متعلق درخواست پر بغیر کوئی حکم دئے مسترد کر دیا گیا تھا۔